7 اشعار

دل کی کوئی بھی بات بتایا نہ کر مجھے

Dil ki koi bhi baat bataya na kar mujhe

دل کی کوئی بھی بات بتایا نہ کر مجھے

«دل کی کوئی بھی بات بتایا نہ کر مجھے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

دل کی کوئی بھی بات بتایا نہ کر مجھےمیں نے کہا بھی تھا کہ ستایا نہ کر مجھے

ڈرتا ہوں میری لو سے ترا گھر نہ جل اٹھےشب میں دیا جلا کے بلایا نہ کر مجھے

میں خود بھی دیکھتا ہوں اداسی کے خال و خدقصے اداسیوں کے سنایا نہ کر مجھے

پھولوں نے مستعار لیا تھا مرا بدنپھولوں کی نازکی سے چرایا نہ کر مجھے

خود آپ اپنے شوق سے بکھرا ہوں دشت میںچن چن کے میری خاک، اٹھایا نہ کر مجھے

میں خط نہیں کہ آگ مٹا دےوجودِمَنٹکڑوں میں چاہے بانٹ، جلایا نہ کر مجھے

میں گیت تو نہیں ہوں مجھے بھول بھال جااپنے حسیں لبوں پہ سجایا نہ کر مجھے

— زین شکیل