7 اشعار

ہمارےبارے میں دنیا اسے بتاتی رہے

Hamare baare mein duniya use batati rahe

ہمارےبارے میں دنیا اسے بتاتی رہے

«ہمارےبارے میں دنیا اسے بتاتی رہے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

ہمارےبارے میں دنیا اسے بتاتی رہےوہ آ زمانے چلی ہے تو آزماتی رہے

اب اس کا ہجر مری جان ہی نہ لے جائےاسے کہو کہ مرے شہر آتی جاتی رہے

یقیں کرو کہ مجھے اب یقیں نہیں کرناہوا سناتی ہے جو کچھ مجھے سناتی رہے

تری شبوں میں نہ اتریں عذابِ ہجر کبھیمگر دعا ہے تجھے چاندنی ستاتی رہے

یہ انتظار ہے کیا بھانولی سے پوچھ کبھیجو اپنے گھر کو یونہی دیر تک سجاتی رہے

لباس شہر سے لاکر ضرور پہنو مگرخیال رکھنا کہیں سادگی نہ جاتی رہے

میں بھول جاؤں اگر زین اپنی ذات کبھیکسی کی یاد مجھے آئینہ دکھاتی رہے

— زین شکیل