7 اشعار

وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگل

Wo jo lagta hai hamein jaan se pyara pagal

وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگلوہ ہے لاکھوں میں فقط ایک ہمارا پاگل

تیری دریاؤں سی عادت ہی تجھے لے ڈوبیمیں بتاتا بھی رہا یہ ہے کنارہ، پاگل

ہر کسی سے نہیں امید لگائی جاتیہر کوئی دے نہیں سکتا ہے سہارا، پاگل!

وہ بھی قسطوں میں دکھاتا ہے ادائیں اپنیوہ بھی ہونے نہیں دیتا مجھے سارا پاگل

اس پہ کیا رونا، تمہیں کوئی سمجھتا ہی نہیںمجھ سے آ کر تو کہو، میں ہوں تمہارا، پاگل!

ساتھ تم تھے تو ہمیں راس تھا پاگل پن بھیاب ترے بعد کریں کیسے گزارہ؟، پاگل!

دور تم جب سے ہوئے تب سے ہمارے حصےبس خسارہ ہے، خسارہ ہے، خسارہ، پاگل!

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں