16 اشعار

دل سے نکلی ہے یہ صدا، مرشد

Dil se nikli hai ye sada, Murshid

دل سے نکلی ہے یہ صدا، مرشد

«دل سے نکلی ہے یہ صدا، مرشد» زین شکیل کا کلام ہے، جسے سحر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

دل سے نکلی ہے یہ صدا، مرشدتیرا لیتا ہوں نام یا مرشد

بے کلی پل رہی ہے سینے میںہاتھ دل پر ذرا لگا، مرشد

کیوں فضائیں ہیں پُر فریب اتنیخوشبوؤں میں ہے کیوں وَبا ،مرشد؟

توشہء عاقبت ملے مجھ کوایسی دے دے کوئی دعا، مرشد

تہنیت غم نے دی گلے لگ کریہ معمّہ عجیب تھا ،مرشد

جاگتی جوت ہے ترا چہرارُخ سے کاکُل ذرا ہٹا، مرشد

عمر بھر کو تمہارے پہلو میںچاہئیے اک ذرا سی جا، مرشد

سامنا ہے مجھے رذالت کاہو کرم کی ذرا نگاہ، مرشد

آپ کے نام زندگی کر دیاور کرتے بھی ہم تو کیا، مرشد؟

کوئی ، آنسو بھی پڑھنے والا ہوہم بھی روئے ہیں بے صدا ،مرشد

یوں لگا عالمِ نزع تھا وہہو رہا تھا کوئی جدا، مرشد

ہم نے قصداً نہیں کیا کچھ بھیہم سے ہونا نہیں خفا، مرشد

اس طرح منہ تو پھیر کر مت جامیری جتنی ہے، دے سزا، مرشد

سانس بھی ساتھ چھوڑ جائے گیزندگی کیوں ہے بے وفا، مرشد

درحقیقت وصال ہے جیونہے فنا میں اصل بقا، مرشد

معاف کر دے تمام تقصیریںمان بردوں کی التجا ، مرشد

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں