6 اشعار

اک تری یاد کو بس رختِ سفر جانا ہے

Ek teri yaad ko bas rakht-e-safar jaana hai

اک تری یاد کو بس رختِ سفر جانا ہے

«اک تری یاد کو بس رختِ سفر جانا ہے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

اک تری یاد کو بس رختِ سفر جانا ہےہم نے پتھر کو بہر طور گہر جانا ہے

جس طرح کٹتی گئی رات بھی خاموشی سےاس طرح ہم نے کسی شام گزر جانا ہے

چاند کو ہم نے بتانا ہے ترے بارے میںآج تو ہم نے بڑی دیر سے گھر جانا ہے

زین اس کو تو اجاڑا ہے کئی صدیوں نےایک لمحے میں کہاں اس نے سنور جانا ہے

اور پھر میرے سوا کون سہے گا اس کواور پھر اس کے سوا میں نے کدھر جانا ہے

زین مالاسا ہمیں اس نے پرو رکھا ہےہم نے چپ چاپ کسی روز بکھر جانا ہے

— زین شکیل