8 اشعار

پھیلی ہے جو آنکھوں میں وہ لالی تو نہیں ہے

Phaili hai jo aankhon mein wo laali to nahin hai

پھیلی ہے جو آنکھوں میں وہ لالی تو نہیں ہے

«پھیلی ہے جو آنکھوں میں وہ لالی تو نہیں ہے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

پھیلی ہے جو آنکھوں میں وہ لالی تو نہیں ہےموجود ہے تُو دل میں خیالی تو نہیں ہے

تعویز محبت سے بچاؤ کا بھلا کیوں؟میں نے یہ مصیبت کبھی پالی تو نہیں ہے

دل تیرے تبسم کا طلبگار رہا ہےورنہ وہ کسی در کا سوالی تو نہیں ہے

میں خاص سے لوگوں میں بڑا عام ہوں لیکنتوخوب سہی اتنا مثالی تو نہیں ہے

چاہا ہے مجھے اُس نے محبت سے بھی زیادہکیا یہ بھی مری خام خیالی تو نہیں ہے؟

واقف ہوں فقط میں ہی نگاہوں کے ہنر سےیہ بات کہیں تو نے اچھالی تو نہیں ہے؟

میں نے تو ترے خط بھی جلائے نہیں اب تکتو نے بھی کوئی یاد سنبھالی تو نہیں ہے؟

شاید تری دستک سے ہی کھل جائے کوئی دَراب زینؔ یہاں گھر کوئی خالی تو نہیں ہے

— زین شکیل