7 اشعار

گزر چکا ہوں کسی لامکاں سے،پہلے ہی

Guzar chuka hoon kisi lamakan se, pehle hi

گزر چکا ہوں کسی لامکاں سے،پہلے ہی

«گزر چکا ہوں کسی لامکاں سے،پہلے ہی» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

گزر چکا ہوں کسی لامکاں سے،پہلے ہییقین کر لیا میں نے گماں سے پہلے ہی

مجھے زمین پہ رہنے کا شوق ہی کب تھاگرا ہوا ہوں کسی آسماں سے، پہلے ہی

یہ آپ اپنے کرم اپنے پاس ہی رکھئیےمیں مل چکا ہوں کسی مہرباں سے، پہلے ہی

مریدِ عشق ہوں دکھلاؤ مت درِ دنیامیں منسلک ہوں کسی آستاں سے، پہلے ہی

سو اب وہ مجھ کو یونہی خرچ کرتا رہتا ہےبچا کے رکھا تھا جس نے، ضیاں سے پہلے ہی

یہ کس لیے ہے جگر زخم زخم بولوتویہ تیر کس نے چلایا، کماں سے پہلے ہی

اُسی نے دیر لگا دی تھی زین آنے میںمیں آگیا تھا کوئے دلبراں سے، پہلے ہی

— زین شکیل