5 اشعار

ہر ایک بات زباں کے تلے دبا آیا ہوں

Har ek baat zaban ke tale daba aaya hoon

ہر ایک بات زباں کے تلے دبا آیا ہوں

«ہر ایک بات زباں کے تلے دبا آیا ہوں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

ہر ایک بات زباں کے تلے دبا آیا ہوںمیں اس کے پاس بڑی دور سے چلا آیا ہوں

میں قیدِ ذات میں رہ کر کبھی نہ چل پاتامیں اس لئے ہی کہیں ذات کو چھپا آیا ہوں

اب آئینے کو بڑی حیرتوں سے دیکھتا ہوںمیں اپنا آپ کسی موڑ پر بھلا آیا ہوں

وہ جس میں تم ہی نہ تھے وہ نصیب کیا کرتامیں تیرے بعد کہیں بخت کو سُلا آیا ہوں

خود اپنی ذات کے اک دشت میں بھٹکتا رہامیں قافلے کو صحیح راہ پہ چلا آیا ہوں

— زین شکیل