10 اشعار

ہر شخص کو حالات سنانے نہیں جاتا

Har shakhs ko halaat sunane nahin jaata

ہر شخص کو حالات سنانے نہیں جاتا

«ہر شخص کو حالات سنانے نہیں جاتا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

ہر شخص کو حالات سنانے نہیں جاتاتنہائی سے اب ہاتھ ملانے نہیں جاتا

ناراض تو ہو جاؤ مگر ذہن میں رکھنامیں روٹھنے والوں کو منانے نہیں جاتا

پیڑوں کے تلے بیٹھنا معمول ہے یوں ہیہر بات پرندوں کو سنانے نہیں جاتا

جذبات کو تابندگی دے دیتے ہو آ کرمیں روز تمہیں یوں ہی بلانے نہیں جاتا

آتے ہیں مجھے روز سنانے تِری باتیںمیں چھت سے پرندوں کو اڑانے نہیں جاتا

پہلے ہی پریشان رہا کرتا ہے دریامیں اور اداسی کو بڑھانے نہیں جاتا

آتا ہے عقیدت کا قرینہ مجھے ،اچھا!دَر دَر پہ چراغوں کو جلانے نہیں جاتا

وہ مجھ سے کبھی بات بھی کرنے نہیں آیامیں اس سے کبھی آنکھ ملانے نہیں جاتا

اصرار جو کرتے ہو تو کچھ سوچ ہی لوں گاورنہ میں کہیں خواب سجانے نہیں جاتا

مانا کہ میں خاموش رہا کرتا ہوں لیکنمیں اس سے کوئی بات چھپانے نہیں جاتا

— زین شکیل