7 اشعار

ہو سکتی نہیں جس کی کوئی بات علیحدہ

Ho sakti nahin jis ki koi baat alaihda

ہو سکتی نہیں جس کی کوئی بات علیحدہ

«ہو سکتی نہیں جس کی کوئی بات علیحدہ» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

ہو سکتی نہیں جس کی کوئی بات علیحدہاس شخص سے اب کیسے کریں ذات علیحدہ

تم ہم سے تو ہم تم سے کریں کوئی گلہ کیوںپہلے تو ہوا کرتے تھے حالات علیحدہ

ہر شخص کو ہر بات بتاتا ہے وہ لیکنکرتا ہی نہیں مجھ سے کوئی بات علیحدہ

آ ٹھہرتی ہے دل میں اداسی کی کوئی رُتآنکھوں میں لگی رہتی ہے برسات علیحدہ

تم بھی تو نہیں کرتے رہے ہجر کا ماتم؟کیا تم نے گزاری ہے کوئی رات علیحدہ؟

وہ شخص، زمانے میں کہیں کھویا ہوا ہےہے جس کی زمانے سے ہر اک بات علیحدہ

اچھا نہیں لگتا اسے تنہائی میں رہنااب کیسے کریں اس سے ملاقات علیحدہ

— زین شکیل