4 اشعار

سارے موسم ہیں یہاں اب تو سزاؤں والے

Saare mausam hain yahan ab to sazayon wale

سارے موسم ہیں یہاں اب تو سزاؤں والے

«سارے موسم ہیں یہاں اب تو سزاؤں والے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

سارے موسم ہیں یہاں اب تو سزاؤں والےجانے کس دیس گئے لوگ دعاؤں والے

جانے تم کس لیے مغرور ہوئے پھرتے ہوتم نے دیکھے ہی نہیں لوگ اداؤں والے

ابر بھی ہو کے گریزاں ہی گزر جاتا ہےپیڑ بھی جل ہی گئے شہر کے، چھاؤں والے

کون اب درد کی جلتی ہوئی لُو روکے گاسارے آنچل ہی دریدہ ہیں، ہواؤں والے

— زین شکیل