6 اشعار

اس بار بھی میں وجہِ خسارہ سمجھ گیا

Is baar bhi main wajah-e-khasara samajh gaya

اس بار بھی میں وجہِ خسارہ سمجھ گیا

«اس بار بھی میں وجہِ خسارہ سمجھ گیا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

اس بار بھی میں وجہِ خسارہ سمجھ گیاآخر دلِ تباہ دوبارہ سمجھ گیا

کچھ وہ بھی اب مزید مسیحا نہیں رہاکچھ یوں ہوا کہ میں بھی اشارہ سمجھ گیا

تم کس طرح سے جیت گئے یہ پتا نہیںاچھا تو اس طرح سے میں ہارا سمجھ گیا

خود کو بھی اب سراب ہی لگنے لگا ہوں میںگرداب کو میں آج کنارہ سمجھ گیا

تم نے کہا کہ تم بھی نہیں اپنے آپ کےمیں سادہ لوح خود کو تمہارا سمجھ گیا

ہوتا رہا قصور یہی ایک عمر بھربے آسروں کو میں جو سہارا سمجھ گیا

— زین شکیل