8 اشعار

پھر آنکھوں نے خواب سجایا ہو گا ناں

Phir aankhon ne khwab sajaya hoga naan

پھر آنکھوں نے خواب سجایا ہو گا ناں

«پھر آنکھوں نے خواب سجایا ہو گا ناں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

پھر آنکھوں نے خواب سجایا ہو گا ناںپھر وحشت نے شور مچایا ہو گا ناں

میرے آنسو پھیل گئے ہیں آنکھوں میںاُس نے میرا سوگ منایا ہوا گا ناں

تُو نے بھی تو شہر میں بسنے کی خاطرکیسا کیسا ڈھونگ رچایا ہو گا ناں

میں جو اتنے پاس سے تجھ کو دیکھوں گاتو بھی کتنی دور سے آیا ہو گا ناں

یہ جو آدھی رات کو تارے روئے ہیںپھر بادل نے چاند چرایا ہو گا ناں

آجا میری نیند کہیں سے آ بھی جاوہ ملنے کو خواب میں آیا ہو گا ناں

میں تو بس یہ سوچ کے گھر سے نکلا ہوںاس نےمجھ کو آج بلایا ہو گا ناں

جن پیڑوں کے سوکھ گئے ہیں پھل ، ان کواُس نے میرا حال سنایا ہو گا ناں

— زین شکیل