7 اشعار

محبت آزماتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو

Mohabbat aazmaati hai mujhe tum yaad aate ho

محبت آزماتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو

«محبت آزماتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

محبت آزماتی ہے مجھے تم یاد آتے ہوجدائی اب ستاتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو

محبت کے سنہرے باغ میں بے چین سی کوئلکوئی جب گیت گاتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو

اذیت ہوکہ راحت ہو کوئی کیسی بھی منزل ہوتمہاری یاد آتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

کوئی تسکیں شدہ چہرہ نہیں بھاتا، نگاہ لیکنتمہیں رو کر بلاتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

نہیں جب تم یہاں ہوتے، اداسی ظلم کرتی ہےمجھے اتنا رلاتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

مجھے لوری سناتی ہیں مری تنہائیاں شب بھراداسی گنگناتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

کسی معصوم حسرت پر کوئی روتی ہوئی بچی،کبھی جب مسکراتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

— زین شکیل