5 اشعار

اس کی آنکھوں میں کوئی خواب ہمارا بھی نہیں

Is ki aankhon mein koi khwaab hamara bhi nahin

اس کی آنکھوں میں کوئی خواب ہمارا بھی نہیں

«اس کی آنکھوں میں کوئی خواب ہمارا بھی نہیں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

اس کی آنکھوں میں کوئی خواب ہمارا بھی نہیںاور پلکوں پہ کوئی چاند اتارا بھی نہیں

ہم بھی چپ چاپ اسے جاتے ہوئے دیکھتے تھےاس نے دیکھا بھی نہیں، ہم نے پکارا بھی نہیں

ایسی تعبیر کو لے کر میں کہاں پھرتا رہوںاس کے ملنے کا تو خوابوں میں اشارہ بھی نہیں

تیری گلیوں میں تو ہم چاند لیے گھومتے تھےاب تو ہاتھوں میں کوئی ایک ستارہ بھی نہیں

تم سے ملنا بھی بہر حال ہمیں ہے تو سہیاس قدر بھیڑ میں لیکن یہ گوارہ بھی نہیں

— زین شکیل