6 اشعار

تو سمندر، کوئی دھارا تو نہیں ہو سکتا

Tu samandar, koi dhaara to nahin ho sakta

تو سمندر، کوئی دھارا تو نہیں ہو سکتا

«تو سمندر، کوئی دھارا تو نہیں ہو سکتا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

تو سمندر، کوئی دھارا تو نہیں ہو سکتایہ محبت ہے کنارا تو نہیں ہو سکتا

دور ہونے سے محبت تو نہیں مر جاتیپاس رہنا کوئی چارہ تو نہیں ہو سکتا

گرد چہرے پہ مسافت کی بھی ہو سکتی ہےاب میں ہر کھیل میں ہارا تو نہیں ہو سکتا

میرے جیتے بھی تمہارا جو نہیں ہو پایامیرے مرنے پہ تمہارا تو نہیں ہو سکتا

تو نے اس شہر کے آداب تو سیکھے لیکنیوں مِری جان گزارا تو نہیں ہو سکتا

دل کو یہ کہہ کے دلاسہ میں دیے جاتا ہوںہر کوئی شخص ہمارا تو نہیں ہو سکتا

— زین شکیل