7 اشعار

عشق دریا میں نہیں کوئی کنارا یارا

Ishq darya mein nahin koi kinara yaara

عشق دریا میں نہیں کوئی کنارا یارا

«عشق دریا میں نہیں کوئی کنارا یارا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

عشق دریا میں نہیں کوئی کنارا یاراتو نے کس موڑ پہ آ مجھ کو پکارا یارا

کس طرح چاند سجا آ کے ترے ماتھے پرکیسے اترا تری آنکھوں میں ستارا یارا

جیت کا جشن بھی چھپ چھپ کے منایا تو نےدیکھ میں کیسے ترے سامنے ہارا یارا

چیخنے لگ گئی اندر کی اداسی مجھ میںمیں نے رو رو کے تجھے اتنا پکارا یارا

ایک بھی پل نہیں کٹتا تھا تجھے دیکھے بناب ترے بعد کریں کیسے گزارا یارا

میں تو اب بھی ہوں تری آنکھ سے اوجھل منظرتُو تو اب بھی ہے مجھے جان سے پیارا یارا

تم بھی اب شہر کی باتوں میں چلے آتے ہواب تمہیں کیسے کہوں میں ہوں تمہارا یارا

— زین شکیل