5 اشعار

یہ ستارے جو لبِ بام نکل آتے ہیں

Ye sitare jo lab-e-baam nikal aate hain

یہ ستارے جو لبِ بام نکل آتے ہیں

«یہ ستارے جو لبِ بام نکل آتے ہیں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

یہ ستارے جو لبِ بام نکل آتے ہیںاس طرح آپ کے پیغام نکل آتے ہیں

کیا کروں ذہن کہیں اور لگاؤں پھر بھیخود بخود آپ کے اوہام نکل آتے ہیں

جب بھی وہ پیار سے لیتا ہے مرا نام کبھیلوگ پھر کیوں مرے ہم نام نکل آتے ہیں

وہ جو منہ پھیر کے ہر روز چلا جاتا ہےاُس کو پھر مجھ سے کئی کام نکل آتے ہیں

ذات کی قید میں اک عمر انہیں رکھتا ہوںپھر بھی جذبے کئی بے نام نکل آتے ہیں

— زین شکیل