5 اشعار

جانے کیا دھڑکتا ہے یار میرے سینے میں

Jaane kya dhadakta hai yaar mere seene mein

جانے کیا دھڑکتا ہے یار میرے سینے میں

«جانے کیا دھڑکتا ہے یار میرے سینے میں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

جانے کیا دھڑکتا ہے یار میرے سینے میںبھر گیا ہے کون اتنا پیار میرے سینے میں

اس نے چھین لی آخر جیت میری آنکھوں سےرہ گئی ہے باقی اب، ہار میرے سینے میں

اس قدر موثر ہے، عشق میرا مولاسےخواہشیں جو دیتا ہے،مار میرے سینے میں

بے پناہ محبت سے میں انہیں بلاتا ہوںپھر بھی بس نہیں پاتے، یار میرے سینے میں

پر کٹا تخیل تھا، سوچ کے پرندوں کااس لئے ہی آبکھری، ڈار میرے سینے میں

— زین شکیل