8 اشعار

جب کبھی بے شمار سوچتا ہوں

Jab kabhi be shumar sochta hoon

جب کبھی بے شمار سوچتا ہوں

«جب کبھی بے شمار سوچتا ہوں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔

جب کبھی بے شمار سوچتا ہوںتیرے نقش و نگار سوچتا ہوں

اس لئے اشک تھم نہیں پاتےمیں تمہیں بار بار سوچتا ہوں

آنکھ سے بہہ گئیں سبھی سوچیںاتنا زار و قطار سوچتا ہوں

یاد کرتا ہوں پہلے وعدوں کوپھر ترا اعتبار سوچتا ہوں

یہ ترا کاج ہی نہیں چپ رہاے دلِ بے قرار، سوچتا ہوں!

واقعی رائیگاں گیا ہوں میںہو کے تجھ پر نثار سوچتا ہوں

خود پہ تو اختیار تھا ہی نہیںتجھ کو بے اختیار سوچتا ہوں

اس نے پوچھا بتا کہاں جائیں؟میں یہ بولاکہ یار، سوچتا ہوں!

— زین شکیل