6 اشعار

جو میرے دل میں اداسی کو بھر کے جانے لگا

jo mere dil mein udasi ko bhar ke jane laga

جو میرے دل میں اداسی کو بھر کے جانے لگا

«جو میرے دل میں اداسی کو بھر کے جانے لگا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

جو میرے دل میں اداسی کو بھر کے جانے لگاوہ پاس رہ کے مجھے اور یاد آنے لگا

یقیں کرو مری سانسیں اکھڑ گئیں اُسی دموہ میرے پاس سےجب جب بھی اٹھ کے جانے لگا

میں کوئی بات ستاروں سے کرنے والانہیںیہ چاند کس کی کہانی مجھے سنانے لگا

ابھی جمے بھی نہیں عشق میں ہمارے قدمتو کیوں یہ شہر ہمیں دار پر چڑھانے لگا

وہ دفن کر کے مجھے خوش ہے اور سوچتا ہےبھلا ہوا کہ کوئی درد تو ٹھکانے لگا

اب اس سے کچھ بھی تو کہنا مجھے نہیں ہے کہ وہہنسی ہنسی میں مری بات بھی اڑانے لگا

— زین شکیل