7 اشعار

کمال پر کمال، پھر کمال کر لیا گیا

Kamal par kamaal, phir kamaal kar liya gaya

کمال پر کمال، پھر کمال کر لیا گیا

«کمال پر کمال، پھر کمال کر لیا گیا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

کمال پر کمال، پھر کمال کر لیا گیاذرا سی بات تھی، بڑا ملال کر لیا گیا

میں خود کھڑا تھا منتظر کسی جواب واسطےنہ جانے مجھ سے کس لیے سوال کر لیا گیا

یہ دو یا چار دن کا سوگ، سوگ ہے بھلا کوئیتمہارے ہجر کو تو ماہ و سال کر لیا گیا

جو یادِ یارماتمی لباس پہنے آ گئیتو عین رو کے آنکھ کو بھی لال کر لیا گیا

وہ جُڑ کے میرے نام سے ڈرا ہوا تھا سو مجھےکہا، ذرا خیال کر، خیال کر لیا گیا!

چلو ہماری خیر ہے ابھی نہیں تو پھر سہیتمہارے زخم کا تو اندمال کر لیا گیا!

ریاضتوں کا جو ثمر تھا اور کوئی لے گیاہمیں تو زین ؔیونہی بس نڈھال کر لیا گیا

— زین شکیل