6 اشعار

کھو گئے جانے کہاں لوگ پرانے والے

kho gaye jane kahan log purane wale

کھو گئے جانے کہاں لوگ پرانے والے

«کھو گئے جانے کہاں لوگ پرانے والے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

کھو گئے جانے کہاں لوگ پرانے والےتو نے دیکھےہیں کہاں جان سے جانے والے

پھر کہانی میں وہی موڑ ہے آنے والامار دیتے ہیں مجھے لوگ زمانے والے

میرے گاؤں میں تو بس ایک یہی خامی ہےلوٹ کر آتے نہیں شہر کو جانے والے

اس کے لہجے میں مقیّد ہے بلا کی ٹھنڈکاور الفاظ سبھی دل کو جلانے والے

تو حقیقت کے تناظر میں کبھی مل مجھ سےخواب ہوتے ہیں فقط نیند میں آنے والے

راہزن کا تو کوئی خوف نہیں تھا ہم کوراستہ بھول گئے راہ بتانے والے

— زین شکیل