5 اشعار

خود کو میں توڑ کے پھر جوڑ کے لاؤں! جاؤں؟

khud ko main tod ke phir jod ke laaun! jaaun?

خود کو میں توڑ کے پھر جوڑ کے لاؤں! جاؤں؟

«خود کو میں توڑ کے پھر جوڑ کے لاؤں! جاؤں؟» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

خود کو میں توڑ کے پھر جوڑ کے لاؤں! جاؤں؟یعنی اب میں نہ کوئی بات سناؤں؟ جاؤں؟

تم بھی پہلی سی توجہ نہیں دیتے مجھ پرجی تو کرتا ہے تمہیں اب نہ ستاؤں، جاؤں!

ایک مدت سے بلایا جو نہیں ہے تُو نےاب یہ حسرت ہے ترے شہر میں آؤں، جاؤں!

شہر نے چھین لیا مجھ سے مِرا بھولا پنسوچتا ہوں کہ میں اب گاؤں بھی آؤں، جاؤں!

اب تجھے روکنا اچھا بھی نہیں لگتا ناںتو نے بھی رَٹ ہی لگا لی ہے کہ جاؤں، جاؤں؟

— زین شکیل