6 اشعار

کسی کی آنکھ سے نکلے ستارے بانٹ لینے تھے

kisi ki aankh se nikle sitare baant lene the

کسی کی آنکھ سے نکلے ستارے بانٹ لینے تھے

«کسی کی آنکھ سے نکلے ستارے بانٹ لینے تھے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

کسی کی آنکھ سے نکلے ستارے بانٹ لینے تھےکنارے بٹ نہیں سکتے سہارے بانٹ لینے تھے

محبت میں کبھی نقصان تو ہوتا نہیں لیکنسمجھنا تھا یہی تو پھر خسارے بانٹ لینے تھے

جسے تم نے بھلایا ہے وہی اک شخص تھا ایساکہ جس نے مسکرا کر دکھ تمہارے بانٹ لینے تھے

سو اب نظروں کا شکوہ کیوں؟یہ پہلے سوچ لیتے نانگاہیں بانٹ لینی تھیں، اشارے بانٹ لینے تھے

کہاں تھا ناں کہ میرےبن کٹھن ہوجائے گا جیناسو میری مان لینی تھی، گزارے بانٹ لینے تھے

جسے فرصت نہیں ملتی ہمارے پاس آنے کیکہاں پھر زین اس نے غم ہمارے بانٹ لینے تھے

— زین شکیل