7 اشعار

مرے پہلو میں رہ کر بھی کہیں رُوپوش ہو جانا

Mere pehlu mein rah kar bhi kahin rooposh ho jana

مرے پہلو میں رہ کر بھی کہیں رُوپوش ہو جانا

«مرے پہلو میں رہ کر بھی کہیں رُوپوش ہو جانا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

مرے پہلو میں رہ کر بھی کہیں رُوپوش ہو جانامجھے یوں دیکھنا اور دیکھ کر خاموش ہو جانا

قسم ہے چشمِ ذیبا کی مجھے بھولے نہیں بھولاتجھے کلیوں کا ایسے دیکھ کر مدہوش ہو جانا

تجھے یہ شہر والے پھر مرے بارے میں پوچھیں گےنظر سے مسکرانا اور پھر خاموش ہو جانا

زمانہ سانس بھی لینے نہیں دیتا ہمیں لیکنہمارے واسطے تم چین کی آغوش ہو جانا

نہ مجھ میں وصفِ موسیٰ تھے نہ میں محوِ تکلم تھامرا بنتا نہیں تھا اس طرح بے ہوش ہو جانا

مرے زخموں مرے نالوں کا اکلوتا محافظ ہےمرے شانوں پہ تیرے ہجر کا بَردوش ہو جانا

سو اب اس نازنیں کی عادتوں میں یہ بھی شامل ہےچمن میں رات کر لینا، وہیں گُل پوش ہو جانا

— زین شکیل