7 اشعار

اداسیوں کا اجاڑ موسم کبھی ستائے تو مجھ سے کہنا

Udasiyon ka ujaad mausam kabhi sataaye toh mujh se kehna

اداسیوں کا اجاڑ موسم کبھی ستائے تو مجھ سے کہنا

«اداسیوں کا اجاڑ موسم کبھی ستائے تو مجھ سے کہنا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

اداسیوں کا اجاڑ موسم کبھی ستائے تو مجھ سے کہنانہ ان اندھیروں میں ہاتھ تم سے کوئی ملائے تو مجھ سے کہنا

مجھے یقیں ہے کہ مجھ سے بڑھ کر تمہیں کسی نے نہیں ہے چاہامری طرح سے کوئی تمہیں جب گلے لگائے تو مجھ سے کہنا

یہ بن سنور کر جو تم نے ماتھے پہ ایک جھومر سجا لیا ہےمگر سجایا تھا جیسا میں نے کوئی سجائے تو مجھ سے کہنا

محبتوں میں عذاب لگتا ہے ہجر لیکن نہیں ہے ایسامگر نظر سے فراق تیری نظر ملائے تو مجھ سے کہنا

نہ ہر کسی پر یقین کرنا بغیر سوچے بغیر سمجھےتمہیں کوئی بھی جو میرے بارے میں کچھ بتائے تو مجھ سے کہنا

میں تیری یادوں کی آخری حد میں نقش ایسے ہوا ہوں جاناںخیال میرا تمہیں جو اک پل بھی بھول جائے تو مجھ سے کہنا

بہت کہا تھا یقین رکھنا کہ زین تم سے جدا نہیں ہےاگر ذرا سا بھی میری باتوں میں فرق آئے تو مجھ سے کہنا

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں