7 اشعار

یہ تو لوگوں نے یونہی بات بنائی ہوئی ہے

Yeh toh logon ne yunhi baat banai hui hai

یہ تو لوگوں نے یونہی بات بنائی ہوئی ہے

«یہ تو لوگوں نے یونہی بات بنائی ہوئی ہے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

یہ تو لوگوں نے یونہی بات بنائی ہوئی ہےکون کہتا ہے تری مجھ سے جدائی ہوئی ہے

میں تو آنکھوں کو بھی پڑھنے کا ہنر جانتا ہوںتو نے اک بات کہیں مجھ سے چھپائی ہوئی ہے

لوگ آتے ہیں مرے گھر کی زیارت کےلیےمیں نے تصویر تری گھر میں لگائی ہوئی ہے

یہ جو غم ہے نا ترے ہجر کا بکھرا ہوا غمہم نے اس غم سے پرے کٹیا بسائی ہوئی ہے

اب جو ہر بات ہواؤں نے بتائی ہے تجھےمیں نے ہر بات ہواؤں کو سنائی ہوئی ہے

میں اکیلا تو نہیں تیرا تصور ہے یہاںاور کمرے میں اداسی بھی بلائی ہوئی ہے

ہم کہاں بکتے تھے ان وقت کے شاہوں کو کبھیتیری حسرت ہمیں بازار میں لائی ہوئی ہے

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں