7 اشعار

مسلسل ہی بھلایا جا رہا ہوں

Musalsal hi bhulaya ja raha hoon

مسلسل ہی بھلایا جا رہا ہوں

«مسلسل ہی بھلایا جا رہا ہوں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

مسلسل ہی بھلایا جا رہا ہوںمیں لکھ لکھ کر مٹایا جا رہا ہوں

مجھے سننے پہ جو راضی نہیں ہےاسے پھر بھی سنایا جا رہا ہوں

مجھے ہر طور ہے مٹی میں ملنانگاہوں سے بہایا جا رہا ہوں

محبت نے سیاست سیکھ لی ہےسلیقے سے ستایا جا رہا ہوں

عجب ہے ہاتھ اس کا تھامنا بھیاٹھا کر پھر گرایا جا رہا ہوں

جہاں پر امتحاں بنتا نہیں ہےوہیں پر آزمایا جا رہا ہوں

مجھے کیا گیت سمجھی ،زین، دنیا؟جو اتنا گنگنایا جا رہا ہوں

— زین شکیل