7 اشعار

پھٹے ہوئے لباس سے تو شخصیت نہ تولیے

Phate hue libaas se to shakhsiyat na toliye

پھٹے ہوئے لباس سے تو شخصیت نہ تولیے

«پھٹے ہوئے لباس سے تو شخصیت نہ تولیے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

پھٹے ہوئے لباس سے تو شخصیت نہ تولیےخدا کا خوف کھائیے ، نہ بد کسی کو بولیے

کوئی دلیل معتبر نہیں ہے عشق سامنےمحبتوں کی جھیل میں یوں زہر تو نہ گھولیے

اداس ہے نظر تو روح میں بھی اک فشار ہےاجڑ چکے بہت ہمیں مزید تو نہ رولیے

ہے جسم و جاں کو ڈس رہا یہ سلسلہ سکوت کاحضور آپ چپ کھڑے ہیں کیوں؟ لبوں کو کھولیے!

یہ کیا کہ رقصِ خامشی رہے ہمارے چارسُوذرا سماعتوں میں رَس محبتوں کے گھولیے

جو ڈس گئے، تو اب یہ اپنے آپ پر ملال ہےکہ پالتے رہے تھے آستیں میں ہم سپولیے

دھیان اس کا اور ہی طرف تھا پھر بھی جانے کیوںوہ مجھ سے کہہ رہی تھی، جی میں سن رہی ہوں بولیے

— زین شکیل