8 اشعار

پھر تو پیڑوں سے بھی دو نام مٹا دینے تھے

Phir to pedon se bhi do naam mita dene the

پھر تو پیڑوں سے بھی دو نام مٹا دینے تھے

«پھر تو پیڑوں سے بھی دو نام مٹا دینے تھے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

پھر تو پیڑوں سے بھی دو نام مٹا دینے تھےتو نے گر عہد مرے دوست بھلا دینے تھے

آج ہی چاند نے بادل میں نہاں رہنا تھاآج ہی رات نے تارے بھی سُلا دینے تھے

آگ میں جھونک کے جانا تھا مری آنکھوں کوجاتے جاتے مرے جذبے بھی جلا دینے تھے

میرے کہنے کا کہاں اس نے بھرم رکھنا تھااس نے محفل سے کہاں لوگ اٹھا دینے تھے

اے مرے خوفزدہ ! رات میں آجاتے ناں!میں نے راہوں میں کئی دیپ جلا دینے تھے

میرے انکار نے کرنا تھا مجھے ہی رسوا!اس نے اک پل میں کئی اشک بہا دینے تھے

یہ سمندر ہی اجازت نہیں دیتا ورنہمیں نے پانی پہ ترے نقش بنا دینے تھے

جانے کیوں آبِ محبت میں مجھے ہی اس نےگھول کر درد کے تعویز پلا دینے تھے!

— زین شکیل