6 اشعار

پیارا ہے، دلربا ہے وہ چاہیں نہیں تو کیا کریں

Pyara hai, dilruba hai woh chahein nahin to kya karein

پیارا ہے، دلربا ہے وہ چاہیں نہیں تو کیا کریں

«پیارا ہے، دلربا ہے وہ چاہیں نہیں تو کیا کریں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

پیارا ہے، دلربا ہے وہ چاہیں نہیں تو کیا کریںپھیلا ہے چار سو وہی سوچیں نہیں تو کیا کریں

نازوں سے پاس آئے گا، لاڈوں سے وہ منائے گاایسی ادائیں دیکھ کر، روٹھیں نہیں تو کیا کریں

پوچھا تھا اس نے آج یہ روتے ہو کیوں تو یہ کہادکھ وہ جو بے حساب ہیں، بھولیں نہیں، تو کیا کریں

وہ کوئی چاند تو نہیں ابر میں جا چھپے گا جونظروں سے ہٹ نہ پائے وہ، دیکھیں نہیں تو کیا کریں

کہتا ہے بس جدا ہمیں، سارے شہر سے اِک وہ شخصسارے ہی لوگ اب ہمیں پرکھیں نہیں تو کیا کریں

رگ رگ میں دوڑتا ہے جو، سانسوں میں جس کا وِرد ہےجاں سے اسے عزیز تر، مانیں نہیں تو کیا کریں

— زین شکیل