5 اشعار

سینے میں ایک درد پروتی ہیں بارشیں

seene mein ek dard paroti hain barishen

سینے میں ایک درد پروتی ہیں بارشیںیوں بھی اداسیوں کو سموتی ہیں بارشیں

ہوتے ہی شام ابر ٹھہرتے ہیں آنکھ میںپھر اس کے بعد رات بھگوتی ہیں بارشیں

جانے یہ کس کے ہجر میں صدیوں سے قید ہیںمدت سے کس کے درد میں روتی ہیں بارشیں

بھیگے ہوئے درخت بڑھائیں اداسیاںکرتی بھی ہیں اداس بھی ہوتی ہیں بارشیں

کس نے کہا کہ تھم گئی برسات آج توآنکھوں میں رات بھر نہیں سوتی ہیں بارشیں

— زین شکیل