39 اشعار

سُن سانسوں کے سلطان پیا

Sun Saanso'n ke Sultan Piya

سُن سانسوں کے سلطان پیا

«سُن سانسوں کے سلطان پیا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

سُن سانسوں کے سلطان پیاترے ہاتھ میں میری جان پیا

میں تیرے بن ویران پیاتو میرا کُل جہان پیا

مری ہستی، مان، سمان بھی تومرا زھد، ذکر، وجدان بھی تو

مرا، کعبہ، تھل، مکران بھی تومیرے سپنوں کا سلطان بھی تو

کبھی تیر ہوئی، تلوار ہوئیترے ہجر میں آ بیمار ہوئی

کب میں تیری سردار ہوئیمیں ضبط کی چیخ پکار ہوئی

مرا لوں لوں تجھے بلائے وےمری جان وچھوڑا کھائے وے

ترا ہجر بڑا بے درد سجنمری جان پہ بن بن آئے وے

مری ساری سکھیاں روٹھ گئیںمری رو رو اکھیاں پھوٹ گئیں

تجھے ڈھونڈ تھکی نگری نگریاب ساری آسیں ٹوٹ گئیں

کبھی میری عرضی مان پیامیں چپ، گم صم، سنسان پیا

میں ازلوں سے نادان پیاتو میرا کُل جہاں پیا

مری تھم تھم جاوے سانس پیامری آنکھ کو ساون راس پیا

تجھے سن سن دل میں ہوک اٹھےترا لہجہ بہت اداس پیا

ترے پیر کی خاک بنا ڈالوںمرے تن پر جتنا ماس پیا

تُو ظاہر بھی، تُو باطن بھیترا ہر جانب احساس پیا

تری نگری کتنی دور سجنمری جندڑی بہت اداس پیا

میں چاکر تیری ازلوں سےتُو افضل، خاص الخاص پیا

مجھے سارے درد قبول سجنمجھے تیری ہستی راس پیا

مِرا چین پیا، مرِی جان پیامِری جندڑی کا سلطان پیا

تِرے باہج حرام ہے جگ سارامجھے قسم رسول، قرآن پیا

تری راہ تکتے ہیں نین مرےکبھی دل کا بن مہمان پیا

مِرا ہیرا، لوء لوء، موتی تُویاقوت مِرا، مرجان پیا

مِرا تیور تُو، مِرا کومل تُومِرا بھیرو، شُد کلیان پیا

مِرا نَحنُ اَقرَب بس اِک تُومِرا کعبہ، تھَل، مکران پیا

مِرا بھی تُو، مِرا مان بھی تُومرا زُھد، ذکر، وجدان پِیا

مرے پیروں میں زنجیر پِیااب نین بہاویں نیر پِیا

اے شاہ مرے اک بار تو آتو وارث، میں جاگیر پِیا

تم سپنوں کی تعبیر پِیابے نام ہوئی، گم نام ہوئی

کیوں چاہت کا انجام ہوئیمرا مان رہے، مجھے نام ملے

اک بار کرو تحریر پِیاتم سپنوں کی تعبیر پِیا

کب زلف کے گنجل سلجھیں گےکب نیناں تم سے الجھیں گے

کب تم ساون میں آؤ گےکب بدلے گی تقدیر پِیا

تم سپنوں کی تعبیر پِیاسب تیر جگر کے پار گئے

مجھے سیدے کھیڑے مار گئےآ رانجھے آ کر تھام مجھے

تری گھائل ہو گئی ہیر پِیاتم سپنوں کی تعبیر پِیا

میں جل جل ہجر میں راکھ ہوئیمیں کندن ہو کر خاک ہوئی

اب درشن دو، آزاد کرواب معاف کرو تقصیر پِیا

تم سپنوں کی تعبیر پیا

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں