10 اشعار

تن تنہا جو سنگ چلے تھے دنیا کے

Tan tanha jo sang chale the duniya ke

تن تنہا جو سنگ چلے تھے دنیا کے

«تن تنہا جو سنگ چلے تھے دنیا کے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

تن تنہا جو سنگ چلے تھے دنیا کےتم نے پیچھے مڑ کر دیکھا ہی کب تھا

لہجوں میں بھی اکتاہٹ چھوڑ آئے تھےاپنوں سے رتّی بھر دوری کیا معنی؟

میرے کمرے میں بے چینی کا ڈھولکتک دھن تک دھن تک دھنا دھن بجتا ہے

اس پر رقصاں تنہائی تھیّا تھیّااور تماشا میرے ٹوٹے خوابوں کا

اور تمہاری تعبیروں کی تصویریںچھوڑو ! اب یہ باتیں تم سے کیا کرنی

اب خود ٹوٹے تو احساس ہوا ہے ناںکس نے تھاما ہاتھ ذرا بتلاؤ تو

کس نے آن لگایا اپنے سینے سےکتنا میں تم کو سمجھایا کرتا تھا

اپنے ہی بس اپنے ہوتے ہیں آخرتب میری باتیں بےکار سمجھتے تھے

اب روتے رہنے سے کیا ہو گا پاگل؟یہ تو تم نے پہلے سوچا ہوتا ناں!

تم نے مجھ کو غیر ضروری سمجھا تھا!!!

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں