13 اشعار

تیرگی میں بھی روشنی ہے ناں

Tareegi mein bhi roshni hai naan

تیرگی میں بھی روشنی ہے ناں

«تیرگی میں بھی روشنی ہے ناں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

تیرگی میں بھی روشنی ہے ناںجو بھی ہے درد دائمی ہے ناں

اس قدر بے تکلفی، توبہسچ بتاؤ یہ دل لگی ہے ناں؟

میں جسے یاد آتا رہتا ہوںوہ مرا دوست مطلبی ہے ناں!

اس نے بدلی ہوئی ہیں آنکھیں بھیاس کے لہجے میں برہمی ہے ناں!

تُو نے بولاہے ، ہاں بچھڑنا ہےہاں کا مطلب، ہنسی خوشی، ہے ناں؟

میری آنکھوں میں جو بھی ہے چھوڑومیرے سینے میں بے کلی ہے ناں!

تجھ سے لے کر تجھی تلک ہے بسمیری اتنی سی زندگی ہے ناں!

تو کہو آج کیاا رادہ ہے؟آج کی شام سرمئی ہے ناں!

تُو مری تیسری محبت ہےپہلی تُو، تُو ہی دوسری ہے ناں!

خامشی! کیوں تجھے گنواؤں میں؟تو مجھے وجد میں ملی ہے ناں!

شاعری، درد، بے بہا چاہتاب مرے پاس بس یہی ہے ناں!

اب ترے اور مرے بچھڑنے کافیصلہ بھی تو باہمی ہے ناں!

اب مجھے یاد تو نہ آؤ گے؟یعنی یہ ہچکی آخری ہے ناں؟؟؟"

— زین شکیل