7 اشعار

تمہاری بے رخی مجھ کو وبالِ جان لگتی ہے

tumhari be rukhi mujh ko wabaal-e-jaan lagti hai

تمہاری بے رخی مجھ کو وبالِ جان لگتی ہے

«تمہاری بے رخی مجھ کو وبالِ جان لگتی ہے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

تمہاری بے رخی مجھ کو وبالِ جان لگتی ہےمجھے میری اداسی بھی مرا ایمان لگتی ہے

کبھی آؤ تمہیں میں کھول کر سینا دکھاؤں گاتمہارے بن گلی دل کی بڑی ویران لگتی ہے

جگہ تو ہے نہیں اس میں ہمیں پھر کیوں بسانا ہےتمہارے دل کی آبادی ہمیں گنجان لگتی ہے

وہ اک مدت سے شرماتی ہے میرا نام آنے پربڑی ہو کر بھی وہ لڑکی مجھے نادان لگتی ہے

مری اپنی کہانی میں کوئی بھی موڑ آجائےمجھے تیری محبت ذیست کا عنوان لگتی ہے

ہمارے بعد کوئی بھی ٹھہر پایا نہیں ہو گاکسی کی آنکھ مدت سے بڑی ویران لگتی ہے

میں کتنے ہی حوالوں میں رہا ہوں پر نجانے کیوںمجھے یہ شاعری ہی بس مری پہچان لگتی ہے

— زین شکیل