6 اشعار

اس کی آنکھوں کے سمندر میں اترنے کے سوا

Uski aankhon ke samundar mein utarne ke siwa

اس کی آنکھوں کے سمندر میں اترنے کے سوا

«اس کی آنکھوں کے سمندر میں اترنے کے سوا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

اس کی آنکھوں کے سمندر میں اترنے کے سواکوئی چارہ بھی نہیں تھا ڈوب مرنے کے سوا

تم سمیٹو گے کہاں تک جائو اپنی راہ لو!کچھ بھی تو آتا نہیں مجھ کو بکھرنے کے سوا

کیا مرے زخموں پہ مرہم بھی لگائو گے کہو؟تم تو کرتے ہی نہیں کچھ بھی سنورنے کے سوا

ہم کہ بس قیدِ محبت میں پڑے ہیں آج بھیسب کیا ہے مرحلہ یہ پار کرنے کے سوا

میری مرضی پوچھنے والے تمہیں معلوم ہے!اور تم سے کیا کہوں گا میں ٹھہرنے کے سوا

اس کے سب جھوٹے دلائل ماند پڑنے لگ گئےکچھ نہیں کر پائے گا اب وہ مکرنے کے سوا

— زین شکیل