7 اشعار

اس کے اندر تھیں وہ سبحانی باتیں، سبحان اللہ!

Us ke andar thin wo subhani baatein, Subhan Allah!

اس کے اندر تھیں وہ سبحانی باتیں، سبحان اللہ!

«اس کے اندر تھیں وہ سبحانی باتیں، سبحان اللہ!» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

اس کے اندر تھیں وہ سبحانی باتیں، سبحان اللہ!سائیں کی کرتی تھی، دیوانی، باتیں ، سبحان اللہ!

جب دونوں اک ہیں تو پھر یہ میں اور تُو کا جھگڑا کیا؟پی وحدت کی مئے کر مستانی باتیں، سبحان اللہ!

جو تیرا، تُو اس کا، پھر وہ جو بولے، وہ تُو بولےساری سَچی، سُچی، لافانی باتیں ، سبحان اللہ!

وہ کہتا ہے میں منصوری، میں تبریزی، میں رومیاس کے لب اور ایسی وجدانی باتیں! سبحان اللہ!

سائیں کی بس ایک نظر سے روح تلک دھل جاتی ہےآنکھوں سے کرتا ہے روحانی باتیں، سبحان اللہ!

سبحان اللہ، ان کے آگے پتھر بھی بول اٹھتے ہیں!کر اٹھی حیرت کی حیرانی، باتیں! سبحان اللہ!

ہائے صدقے، سوہنا، مٹھڑا سانول کرتا رہتا ہےکیسی میٹھی، پیاری، یزدانی باتیں، سبحان اللہ!

— زین شکیل