7 اشعار

وہ آئینوں سے جو بے خبر ہے، حسین تر ہے

Woh aainon se jo bekhabar hai, haseen tar hai

وہ آئینوں سے جو بے خبر ہے، حسین تر ہے

«وہ آئینوں سے جو بے خبر ہے، حسین تر ہے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

وہ آئینوں سے جو بے خبر ہے، حسین تر ہےوہ جس پہ ٹھہری ہوئی نظر ہے، حسین تر ہے

جو دھوپ اوڑھے ہوئے بھی سایہ تو دے رہی ہےوہ شاخ کتنی ہی بے ثمر ہے، حسین تر ہے

جو سر پہ دستِ کرم ہے ان کا تو رنج کیساپھر عمر جتنی بھی مختصر ہے، حسین تر ہے

وہ شہر ان کا کمال سے بھی کمال ہے پروہ ان کے در کی جو رہگزر ہے، حسین تر ہے

فشارِ جاں بھی قرارِ جاں ہی لگے ہے اب توجو مجھ پہ طاری ترا اثر ہے، حسین تر ہے

جو حق پہ بولے، زبان کھولے، سکوت توڑےمرے لیے تو وہ معتبر ہے، حسین تر ہے

یہاں وہاں ہے، اِدھر اُدھر ہے، کدھر کدھر ہےترا تصّور جدھر جدھر ہے، حسین تر ہے

— زین شکیل