7 اشعار

یوں کہانی تو سنانی نہیں آتی مجھ کو

Yun kahani to sunani nahin aati mujh ko

یوں کہانی تو سنانی نہیں آتی مجھ کوکیا کروں بات گھمانی نہیں آتی مجھ کو

کر دیا کرتے ہیں آنسو مرے غم کو ظاہراک نشانی بھی چھپانی نہیں آتی مجھ کو

عشق کرتب تو نہیں ہے مِرے معصوم صِفَتجھیل میں آگ لگانی نہیں آتی مجھ کو

تم بھی اب دن میں ملاقات کی زحمت کرناچاندنی رات چرانی نہیں آتی مجھ کو

اپنی جانب تجھے کس ڈھب سے کروں گا مائلاک توجہ بھی دلانی نہیں آتی مجھ کو

وہ جو پہلے بھی بتاتے ہوئے دل ڈرتا تھااب بھی وہ بات بتانی نہیں آتی مجھ کو

دن نکلنے کو ہے سو جاؤ خدارا اب توکوئی پریوں کی کہانی نہیں آتی مجھ کو

— زین شکیل