8 اشعار

آج تھوڑا سا مسکرانے دے

Aaj thoda sa muskurane de

آج تھوڑا سا مسکرانے دے

«آج تھوڑا سا مسکرانے دے» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

آج تھوڑا سا مسکرانے دےمیرے دل اس کو بھول جانے دے

تو بتائے گا عشق کا مطلبجا یہاں سے ہوا کو آنے دے

مجھ کو چارہ گری سے غرض نہیںچارہ گر زخم بس دکھانے دے

تم محبت نبھاؤ کب کہا یہعرض اتنی مجھے نبھانے دے

سخت لہجہ ہے عشق میں ممنوعتو مجھے آنکھیں ہی دکھانے دے

تم محبت میں دھوکہ کھا رہے ہواچھا'چپ رہ مزے سے کھانے دے

وصل ایسا نصیب ہو'وہ کہےیار بس کر دے یار جانے دے

آج دیکھا ہے شیخ کو قلزمکہاں دیکھا یہ بات جانے دے

— زبیر قلزم