9 اشعار

سوچتا ہوں کہ بچھڑ کر تو کدھر جائے گا

Sochta hoon ke bichhad kar tu kidhar jaayega

سوچتا ہوں کہ بچھڑ کر تو کدھر جائے گا

«سوچتا ہوں کہ بچھڑ کر تو کدھر جائے گا» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

سوچتا ہوں کہ بچھڑ کر تو کدھر جائے گادل لگائے گا کسی سے تو یا مر جائے گا

زیب تم کو نہیں دیتی یہ نبھا کی باتیںتم کو عادت نہیں اس کی تو مکر جائے گا

تیری نسلوں سے محبت نہ کرے کوئی بھیان میں بھی تیری جفاؤں کا اثر جائے گا

میں نے سوچا تھا بہت اور بہت سوچا تھایہ نہ سوچا تھا مرے دل سے اتر جائے گا

ساقیا اور پلا بات بڑے دکھ کی ہےدل مرا ساتھ مرے آج بھی گھر جائے گا

یار یہ قصے وفاؤں کے نہ سنا مجھ کودیکھ غصے میں نشہ سارا اتر جائے گا

جس کی میت پہ بٹا کھانا'مرا ہے بھوکااور احسان یہ مرحوم کے سر جائے گا

دیکھ نم آنکھوں کے رستے نہ اتر تو دل میںڈر ہے اس بات کا تو ڈوب کے مر جائے گا

دل کے ہاتھوں میں پریشان بہت ہوں قلزمدل تو بچہ ہے سجن چھوڑ سدھر جائے گا

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں