7 اشعار

آپ چاہیں تو کیا سے کیا کر دیں

Aap chahein toh kya se kya kar dein

آپ چاہیں تو کیا سے کیا کر دیں

«آپ چاہیں تو کیا سے کیا کر دیں» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

آپ چاہیں تو کیا سے کیا کر دیںمجھ نکمے کو سب عطا کر دیں

میری تقدیر کا جلا کے دیاپھر نگہبان بھی ہوا کر دیں

روضے پر جاؤں یہ بساط کہاںمیرے سرکار معجزہ کر دیں

مسئلہ ہے کہ آپ سے ہوں دورمیرا حل یہ بھی مسئلہ کر دیں

مجھ کو اپنا غلام کہہ کر آپساری دنیا کا بادشہ کر دیں

میں گزر جاؤں پل صراط سے بھیمیرے آقا جو آسرا کر دیں

ان غموں نے بہت ستایا مجھےمجھ پہ نظر کرم زرا کر دیں

— زبیر قلزم