8 اشعار

یہ اندھیرا مٹا نقاب ہٹا

Yeh andhera mita naqaab hata

یہ اندھیرا مٹا نقاب ہٹا

«یہ اندھیرا مٹا نقاب ہٹا» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

یہ اندھیرا مٹا نقاب ہٹاچاندنی شب بنا نقاب ہٹا

آ گئے ہیں سیاہ بخت لیےروشنی سی لٹا نقاب ہٹا

میری حالت پہ ہنس رہے ہیں جوہوش ان کے اڑا نقاب ہٹا

اس کے پیچھے مرا ہی چہرہ ہےمجھ کو مجھ سے ملا نقاب ہٹا

کیا کہا؟اس نے غصے سے پوچھامیں نے پھر سے کہا نقاب ہٹا

قصہ لمبا ہے بد حواسی کامختصر تو بتا نقاب ہٹا

میں بھی لایا ہوں حسرت دیدارطور پھر سے جلا نقاب ہٹا

اس کو کہتے طبیب سارے ہیںاپنا قلزم بچا نقاب ہٹا

— زبیر قلزم