8 اشعار

اور کچھ بھی ہو یوں ہوا نہ ہو

Aur kuch bhi ho yun hawa na ho

اور کچھ بھی ہو یوں ہوا نہ ہو

«اور کچھ بھی ہو یوں ہوا نہ ہو» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

اور کچھ بھی ہو یوں ہوا نہ ہوہاں ابھی اس کا دل بھرا نہ ہو

ہم بجھے ہیں ابھی ہوا نہ دوکوئی شعلہ کہیں دبا نہ ہو

چھوڑ کہ جانا ہے تو ایسے جازندگی بھر ہمیں گلہ نہ ہو

اب کہ تجدید ہو بشر کی اورجسم میں دل کی پھر جگہ نہ ہو

بے دلی اس قدر نہ بڑھ کہ ہملب ہلائیں مگر دعا نہ ہو

ہم تو ایسے ہیں بخت مارے کےجن کو غم کا بھی آسرا نہ ہو

زندگی یوں بسر ہوئی اپنیجیسے اپنا کوئی خدا نہ ہو

کھا گئے ہو جوانی میری تمعشق تیرا کبھی بھلا نہ ہو

— زبیر قلزم