7 اشعار

ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی

Humein bhi toh mohabbat ho gayi thi

ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی

«ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھینہ پوچھو کیا قیامت ہو گئی تھی

ہمیں جب عشق نے قیدی رکھا تھاتو جاں دے کر ضمانت ہو گئی تھی

اٹھائے پھر رہا ہوں لاش اپنیمری مجھ سے ہلاکت ہو گئی تھی

یہ کیسے تم نے بدلی ہے بتاؤتمہیں بھی میری عادت ہو گئی تھی

میں جب تک لوٹا اپنے پاس تب تکمرے اندر بغاوت ہو گئی تھی

اجل آئی ہے میں صدقے میں واریاذیت میری قسمت ہو گئی تھی

بچھڑتے وقت یہ بھی دکھ تھا قلزموہ کتنی خوبصورت ہو گئی تھی

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں