8 اشعار

بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا

Bazm-e-jaanan mein jab apna jaana hua

بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا

«بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہوا» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہواکتا بتائیں تجھے کا تماشہ ہوا

دل مچلتا روکتا میں رہادل سے جھگڑا مرا بے تحاشہ

پارساؤں سے حوریں ہیں سہمی ہوئیدلبروں کا جہنم ٹھکانہ ہوا

ہیں محبت سے خالی لکریں مریمعجزہ آپ سے دل لگانا ہوا

آج تک یاد ہے ان کو تل تھا کہاںجب کہ بچھڑے ہوئے اک زمانہ ہوا

جو چلے آؤ تم تو ہمیں بھی لگےلوگ کہتے ہیں موسم سہانا ہوا

ان کو جنت ملے گی خدا کی قسمیہ محبت تو جن کا ترانہ ہوا

وقت نے چاند کی شکل تبدیل کیغور کر چاند بھی روٹی جیسا ہوا

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں