9 اشعار

اذیت کے جیسے سہی زندگی ہے

Aziyat ke jaise sahi zindagi hai

اذیت کے جیسے سہی زندگی ہے

«اذیت کے جیسے سہی زندگی ہے» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

اذیت کے جیسے سہی زندگی ہےالگ ہے یہ احساں ملی زندگی ہے

یہ کیوں تم نے برباد کی زندگیتو کیوں پوچھتا ہے تری زندگی ہے

کسی کی جو ہوتی لٹکتی تو ہوتییہ قسمت تری تو مری زندگی ہے

برے وقت میں ساتھ چھوڑا جو سب نےپریشان کیوں ہے یہی زندگی ہے

بسر کر رہا ہوں میں نہ چاہتے بھیگلے ڈھول جیسے پڑی زندگی ہے

سمجھ ہی نہ پایا کہ ناراض میں ہوںیا ناراض مجھ سے مری زندگی ہے

اناڑی کوئی کاٹتا ہے شجر کومیاں اپنی ایسے کٹی زندگی ہے

اجل کے مسافر بہک تم نہ جانایہاں ہر قدم پر کھڑی زندگی ہے

جواں عمر کا جو میں بوڑھا ہوں قلزممیری عمر سے یہ بڑی زندگی ہے

— زبیر قلزم