9 اشعار

بات بے بات غزل کہتے ہیں

Baat be baat ghazal kehte hain

بات بے بات غزل کہتے ہیں

«بات بے بات غزل کہتے ہیں» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

بات بے بات غزل کہتے ہیںیعنی دن رات غز کہتے ہیں

شہر میں بولتی ہے وہ اردواور مضافات غزل کہتے ہیں

جب بھی آئے وہ مرے گاؤں میںکھیت باغات غزل کہتے ہیں

اس لیے شعر میرے سنتی ہےمیرے جذبات غزل کہتے ہیں

دیکھ کر اس کے لبوں کی جنبشیہ سماوات غزل کہتے ہیں

میں کہاں کوئی سخن کہتا ہوںیہ تو حالات غزل کہتے ہیں

جب اٹھیں اس کی نشیلی آنکھیںسب خرابات غزل کہتے ہیں

حادثہ ہو کے گزر جاتا ہےاس کے اثرات غزل کہتے ہیں

حسن بڑھ جاتا ہے قلزؔم اس کاجب خیالات غزل کہتے ہیں

— زبیر قلزم